صاحب کا دروہ امریکہ

صاحب کا دروہ امریکہ

صاحب ابھی ابھی امریکہ کا دورہ کر کے آئے تھے اور ان کے آنے کے بعد لوگ ان کے استقبال میں مصروف ہو گئے۔کچھ مفکرین ان کے دورہ امریکہ کی روداد جاننا چاہتے تھے تو کچھ ان سے اس بات کی گزارش کر رہے تھے کہ وہ نہ صرف ہمیں بلکہ عوام کو بھی اپنے سفر کی روداد بیان کریں تاکہ لوگ بھی آپ کے دورہارمریکہ سے لوٹنے پر آپ کے خیالات و احساسات سے واقف ہو سکیں۔فائدہ یہ ہوگا کہ لوگ ان چیزوں کو اختیار کریں گے جن کو انھوں نے اختیار کیا اوریہی سبب ہے کہ وہ آج بلندیوں پر ہیں۔ لوگ ان کے علم اور فن کا لوہا مانتے ہیں اور دنیا پر ان کی دھاک ہے۔اہل علم اگر کہیں پائے جاتے ہیں تو یہیں امریکہ اور یورپ میں اور آرزں اور خواہشات کا اگر کوئی مینارہ ہے تو یہی امریکہ اور یورپ ۔اوریہ سب اس وجہ سے ہوا کہ یہاں پائے جانے والے کامیاب ترین ،با صلاحیت افراد اپنے مشن میں جی جان سے جٹ گئے۔

پہلے تو صاحب کا تعارف کرایا گیا اور وہ سر جھکائے اپنے تعارف کو بہت ہی انکساری کے ساتھ سنتے رہے ۔ ویسے واقعی وہ تھے بھی اس تعارف کے حقدار اور صاحب دنیا کے بہت سے ملکوں کا سفر بھی کر چکے تھے اس لیے بھی وہ دنیا دیکھے ہوئے لوگوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔بہر حال! صاحب نے بتانا شروع کیا کہ ہم جس ملک اور قوم سے وابستگی رکھتے ہیں اس کے پچھڑے ہونے کے کیا اسباب ہیں اور وہ جو کامیاب ہیں ان کی کامیابی کی کیا وجوہات ہیں۔وجہ نمبر ایک: وہ اپنے ملک سے بے انتہا محبت کرتے ہیں، اس کے حق میں ہر فیصلہ کرتے ہیں خواہ ان کی ذات ہی کوکیوں نہ نقصان پہنچ جائے اور ہم! تو ہمارا حال یہ ہے کہ ہمیں نہ اپنے ملک سے محبت ہے اور نہ ہی ملک کی خاطر اپنی ذات کو کسی پریشانی میں مبتلا کرنے کی خواہش۔۲) وہ علم کے میدان میں ہم سے بہت آگے ہیں، وہ تجربات کی دنیا میں قدم بڑھاتے ہیں،ان کا معاملہ یہ ہے کہ اگر کوئی چیز عقلی بنیادوں پر غلط ثابت ہو جائے تو پھر اس کے پیچھے نہیں پڑے رہتے اور ہم ۔ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے، ہم تومہات کا شکار ہیں،ہم پردقیانوسی فکر کے حامل لوگوں کا غلبہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں علمی عروج نہیں حاصل ہوسکا۔۳) وہ ٹیکنالوجی اور سائنس اور اسی طرز کی دیگر چیزوں میں ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں اور ہم۔ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہمیں ٹیکنالوجی کی الف بے بھی نہیں معلوم۔۴)وہ معاشرتی بنیادوںپر،سماجی بنیادوں پر اور خاندانی بنیادوں پر ترقی یافتہ لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔پرانے رسم و رواج، جاہلانہ مذہبی عقائد و نظریات کے خلاف ہیں اور ساتھ ہی انسان کی نفسانی خوہشات کے علمبردار کہ جس کے ذریعہ لوگ ہیجانی کیفیات کا شکار نہیں ہوتے۔ اور ہم تو ہمارا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ مختصر یہ کہ وہ اپنے ملک اوراہل ملک سے محبت کرتے ہیں اور ان کے حق میں ہر فیصلہ لیتے ہیں۔ جہاں ان کو کسی سے اپنے ملک اور اہل ملک کو خطرہ محسوس ہوتا ہے وہ ان کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہیں اور ان لوگوں کو کچل کر رکھ دیتے ہیں۔اور سب سے بڑی خوبی یہ کہ وہ کسی بھی معاملہ میں جھوٹ سے کام نہیں لیتے ، جو کرتے ہیں ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں جو کہتے ہیں ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں۔ اور دیکھو نا! یہ تو ہمارے رسول نے بھی فرمایا ہے کہ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔لیکن ہمارا طرز عمل اس کے برخلاف ہے۔ ہم تو مسلمان ہیں اور پھر بھی جھوٹ میں مبتلا رہتے ہیں تو بتا ہم کیسے ترقی کر سکتے ہیں؟ہم تو دنیا وی معاملات میں بھی اور مذبہی بنیادوں پر بھی وہ کچھ نہیں کر رہے جو کامیابی دلانے والی ہیں تو بتا میرے بھائیوں! بتا !ہم کیسے کامیاب ہوں گے اوردنیا کیسے ہماری بات مانے گی، ہماری حیثیت دنیا کیسے تسلیم کرے گی اور کیسے ہم دنیا میں سرخرو ہوں گے؟ لہذا اگر ہمیں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں اُن کی طرز زندگی کو اختیار کرنا ہوگا ، ان کی خوبیوں کو اختیار کرنا ہوگا اور ان توہمات اور دقیانوسی باتوں سے گریز کرنا ہوگا۔انسان کو آزادی اظہار کی آزادی دی گئی ہے ہمیں بھی وہ دینا ہوگی۔ہمیں نفسانی خواہشات کو دبانے والے بیانات بند کرنا ہوں گے۔میرے بھائیوں ! کیا تم مجھے نہیں جانتے ؟ کیا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ کیا میں تمہارا اور اپنی قوم و ملت کا دشمن ہوں؟ نہیں ایسا نہیں ہے ۔میں تمہاراخیر خواہ ہوں اور میں نے اُن کامیاب لوگوں کے ملک کا سفر کرکیا ہے اور اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا ہے کہ کامیابی کیا ہوتی ہے۔اگر تم نے میری بات نہ مانی تو یقین جانو تم ناکام ہوگے اور دنیا تمہارے وجود کو ایسے ہی ختم کرنے کے درپے رہے گی! سا معین نے زور دار تالیاں بجائیں اور قوم و ملتکے مخلص کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔لوگ کہے جا رہے تھے کہ واقعی آپ کی باتوں نے ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا، واقعی ہمیں اس درماندہ زندگی سے گریز کرنا چاہیے اور صاحب تھے کہ ان کی آنکھوں سے آنسوں جاری تھے ۔اپنے ملک، اہل ملک اور ملت کی صورتحال پر!

صاحب سے اب لوگ بالمشافہ استفادہ کر رہے تھے۔مختلف طرح کے سوالات کر رہے تھے اور ان کی رہنمائی حاصل کر رہے تھے۔پوچھنے والے نے پوچھا کہ سلمان رشدی نے جو ابھی کچھ دن پہلے کہا کہ" مسلمانوں کو اجتہاد کے دروازے بند نہیں کرنا چاہیے۔اسلام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اجتہاد کی ضرورت ہے "۔پھر یہ بھی کہ"اسلامی تعلیمات کی ایک وسیع تر تشریح سے نا صرف مسلمانوں کے دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے اچھے تعلقات بہتر ہوں گے بلکہ مسلم کمیونٹی میں پائی جانے والے بیگانگی میں کمی آئے گی۔اصلاح کے اس عمل سے ان جہادی عناصر پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی جو سات جولائی کو لندن میں ہونے والے بم حملوں کے ذمہ دار ہیں"۔مزید یہ کہ :"قرآن کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ تبدیل ہونا چاہیے اور اسے ایک'غلطیوں سے پاک'چیز سمجھنے کی بجائے اس کو ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت سے مطالعہ کرنا چاہیے۔کیونکہ قرآن کے بارے میں ہمارے موجودہ رویے نے کسی بھی طرح کی دانشوارانہ گفتگو کو ناممکن بنا دیا ہے"(http://www.bbc.co.uk/urdu, dt. 25.8.05)۔ ان بیانات کے علاوہ ایک خبر یہ بھی ہے کہ"مڈ نائٹ چلڈرن "کے بعد اب سلمان رشدی اپنی معتوب کتاب "satanic verses" پر بھی سری لنکا میں فلم بنانے والے ہیں اور اس کو صدر سری لنکا ماہندا راجاپاکسا نے بھی اجازت دے دی ہے(http://www.independent.co.uk, dt. 21.5.11)۔ اس باے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے!

صاحب فرما رہے تھے۔ واقعی یہ حوصلہ مند باتیں ہیں اور ایک جرت مند شخص ہی ایسی باتیں کر سکتا ہے۔ایسا شخص نہ صرف جرت مند ہوگا بلکہ وہ غور و فکر کرنے والا بھی کہلائے گا۔واقعی یہ باتیں قابل غور ہیں۔اجتہاد مسلمانوں کی شان ہے ہر دور میں وہ اجتہاد کرتے آئے ہیں تو اگر آج وہ اجتہاد کرنے کی بات کہتے ہیں تو اس میں کیا غلط ہے؟ رہی بات اسلامی تعلیمات کی ایک وسیع تر تشریح کی تو یہ باتیں بھی

علمی حلقوں میںہوتی ہی رہتی ہیں ۔کیونکہ ہر زمانے میں چیزوں کی تشریح زمانے کے لحاظ سے کی جاتی ہے تو اگر آج کے زمانے میں ہم پرانے طرز پر ہی چلتے رہے تو موجودہ زمانے میں رہنے والے لوگ ان باتوں سے کیسے واقف ہوںگے جن سے وہ کبھی واقف ہی نہیں رہے؟ اور قرآن کی بات! تو جناب یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن ہمارا رہبر ہے۔لیکن کیا وہ واقعی رہبری کر رہا ہے؟ اور ہم اس پر عمل پیرا ہیں؟ اور آخری بات کہ وہ فلم بنا رہے ہیں تو بنائیں ۔فلمیں تو بنتی ہی رہتی ہیں آپ کس کس فلم کو بننے سے روکتے رہیں گے؟ فلمیں تو تفریح کا ذریعہ ہوتی ہیں اگر اس کو دیکھ کر بھی کچھ تفریح اور کچھ پیسہ کما لیا جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟بے چارہ سوال کرنے والا دُم دبا کر بھاگ نکلا! صاحب نے سوال کے جواب دینے کی بجائے الٹے سوال کر ڈالے اور وہ بھی معقولیت والے،غور و فکر کرنے والے،تو جواب تو غور وفکر کرکے اور سوچ سمجھ کر ہی دیے جائیں گے نا!

صاحب سے یہ بھی سوال ہوا کہ یہ شاتم رسول کا کیا معاملہ ہے؟ قرآن کو پادری کے ذریعہ جلانے کا کیا معاملہ ہے؟عالم عرب اور اسلامی ممالک سمجھے جانے والے ممالک میں اچانک بے چینی اور انتشار جو پیدا ہوااور یہ جو عوامی بیدار ی نظر آنے لگی اس کا کیا معاملہ ہے؟اور ہاں یہ جو جہادی ، القاعدہ کا بانی "اسامہ بن لادن"کی موت!اس کا معاملہ؟ صاحب بتا رہے تھے۔دیکھو میرے عزیزو! جب تم دوسروں پر وار کروگے تو تم پر بھی لوگ وار کریں گے۔ایک اور سوال کرنے والے نے بیچ میں ہی پوچھ لیا ہم نے کب کس پر اور کہاںوار کیا؟ صاحب اکھڑ گئے! بھئی جواب تو پورا کرنے دیں آپ، یہی توہم مسلمانوں کی جہالت کی نشانی ہے ، بات پوری سنتے نہیں کہ سوالات داغنا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کو اگر صبر نہیں توآپ جائیں یہاں سے! لوگوں نے بیچ بچا کیا،صاحب کو ٹھنڈا کیا۔صاحب پھر کہ رہے تھے دیکھو میرے عزیزو! جب تم دوسروں پر وار کروگے تو تم پر بھی لوگ وار کریں گے۔کوئی تمہاری جان پر وار کرے گا، کوئی تمہارے کردار پر،کوئی تمہارے رسول پر ،کوئی تمہارے قرآن پر،کوئی اقتدار پر غرض طرح طرح کے وار ہوں گے اور وہ تم کو برداشت کرنے ہوں گے ۔ اسی لیے تو جب سے کہہ رہا ہوں کہ اپنے رویہ میں تبدیلی پیدا کرو۔اسلام کی تبلیغ، اسلا م کی اشاعت، اسلام کے قیام ،اور اسی طرح کی باتیں چھوڑو اور پڑھو لکھو، اپنے طرز زندگی کو تبدیل کرو، دنیا میں جو عیش و آرام کی چیزیں ہیں ان کے حصول میں لگ جا، پھر یہ تمہارا پاگل پن بھی دور ہو جائے گا اور تم سے نفرت کرنے والے بھی نہیں رہیں گے۔ تم دنیا کے ساتھ چل کر تو دیکھو، دنیا تمہیں عزت دے گی، تمہاری قدر کرے گی اور تم کامیاب لوگوں میں شمار ہوگے۔

کسی نے کہا: صاحب چند باتیں اور پوچھ لیں اگر آپ موقع دیں تو ویسے بھی آپ جیسے صاحب بصیرت لوگ ملتے ہی کب ہیں اور ان سے استفادہ کا موقع تو اور بھی بس چند خوش قسمت لوگوں کو ہی ملتا ہے۔صاحب نے کہا بھئی بات کو مختصر کریں ،یہ مونہہ پر تعریف اچھی بات نہیں۔ آپ بس سوال کریں میں جواب دوں گا۔جی صاحب! سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کا آپ تذکرہ فرما رہے ہیں اور جن کے نقش قدم چومنے کی بات کر رہے ہیں ان کے" مالک حقیقی"پر جب عراق کے ایک صحافی منتظر الزیدی نے اپنا جوتا پھینک مارا تو ہم کیسے اس طرز عمل کو اختیار کر سکتے ہیںجس کے نتیجہ میں اس کے سربراہ پر جوتا مارا جائے اور اُس کو اِس طرح ذلیل و رسوا کیا جائے ۔جس کے بعد یہ واقع تاریخی واقعہ بن گیا۔کیا ہمیں اُس طرز عمل کو اختیار کرنا چاہیے جس کے عوض دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ذلت و رسوائی کے سوا مقدر میں کچھ ہاتھ نہ آئے؟ صاحب کہہ رہے تھے بھئی پہلے تو میں اس واقعہ کی روشنی میں آپ کی معلومات میں کچھ اضافہ کر دینا چاہتا ہوں بعد میں آ پ کے سوال کا جواب دوں گا۔ کہا کہ : ارشاد! "معاملہ یہ ہے کہ جو جوتا مارا گیا تھا اس کا ماڈل نمبر 271تھا اور جب وہ جوتا دنیا کے سپر پاور کے منہ پر دے مارا تو اس کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوگیا۔ فوراً ہی تین لاکھ جوتوں کے آڈر موصول ہوئے۔ترکی کی ایک جوتا ساز کمپنی نے اس کا نام بدل کر "بش جوتا" رکھ دیا۔ اسلامی ممالک میں اس جوتے کی مانگ کے علاوہ امریکہ کی ایک کمپنی نے بھی اٹھارہ ہزار جوتوں کا آڈر دیا۔ جوتا ساز کمپنی نے اس جوتے کو یورپ میں بیچنے کے لیے معاہدہ کرنے کی بھی پیشکش کی ہے"(ur.wikipedia.org, dt. 27.12.08)تو یہ ہے اس جوتے کی قسمت کھلنے کی بات اور دوسری طرف ونیزویلا کے صدر ہیو گوز شاویز نے عراقی صحافی کی ہمت کی داد دی ہے ۔کراکس میں ایک ٹی وی شو میں گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ وہ کسی پر جوتا اٹھانے کے قائل نہیں لیکن وہ اس ہمت کی داد دیتے ہیں(daily.urdupoint.com, dt.25.5.11)۔اور اب ہمارے ملک میں 14دسمبر 2008 کے تاریخ ساز کردار منتظر الزیدی دہلی آرہے ہیں جہاں مہیش بھٹ کا ڈرامہ "دی لاسٹ سلوٹ"پیش کیا جائے گا اور جسے معروف ڈائریکٹر اروند گورڈائرکٹ کریں گے۔ منظر کا کردار نوجوان آرٹسٹ عمران زیدی کریں گے اور یہ ڈرامہ دہلی، ممبئی، کولکتہ اور دبئی میں پیش کیا جائے گا(jang.net, dt. 25.5.11)۔

اب رہی بات آپ کے سوال کی تو غور فرمائیے کہ کیا امریکہ اور امریکہ نواز" آپ کے ملک" پاکستان کی مالی مدد نہیں کر رہے ہیں؟ اگر اس جوتے نے اور جوتا بنانے والوں نے اپنی تجارت میں اضافہ کر لیا تو کیا یہ امریکہ کے سابق صدر بش صاحب کی بڑائی نہیں؟ آج آپ دہلی میں اور دیگر میٹرو شہروں میں جو یہ ڈرامہ دیکھنے کے خواہش مند نظر آ رہے ہیں اور اس سے جو شہرت عمران زاہد کو ملے گی اس میں امریکہ کا ہاتھ نہیں؟صاحب بس بس بس! آپ تو ہر سوال کا جواب دیتے دیتے خود سوال داغنا شروع کر دیتے ہیں۔ جی جی ! آپ صحیح کہہ رہے ہیں ہمیں امریکہ اور یورپ سے سبق لینا چاہیے، دنیا میں اگر کسی کو ترقی مل رہی ہے تو ان ہی کی وجہ سے اور آج جو چہار جانب علم کا چرچا ہے، ٹیکنالوجی میں یہ دریافتیں ہیں، معاشرہ اور خاندانی نظام میں جو یہ جدید روایتیں ہیں وہ سب امریکہ اور یورپ ہی کی دین ہے۔آپ صحیح کہہ رہے ہیں اگر ہم نے ان کے نقش قدم کو اختیار نہیں کیا تو نہ ہم کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ ہمارے بچے۔اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ صاحب کو ابھی ایک دوسری کانفرس میں بھی خطاب کرنا ہے اس لیے وہ آپ سے رخصت چاہتے ہیں۔ لوگوںنے شکریہ ادا کیا اور صاحب اپنی شاندار گاڑی میں دوسری کانفرس کے لیے روانہ ہو گئے!

CONVERSATION

Back
to top