رمضان اور انفاق فی سبیل اللہ

رمضان اور انفاق فی سبیل اللہ

اللہ تعالیٰ انسانوں سے بے انتہا محبت کرتا ہے اور اس محبت کا ہی تقاضہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو دنیا و آخرت میں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ُاس نے پہلے انسان حضرت آدم ؑکو ہدایت سے سرفراز کیا، انھیں علم بخشا اور عبادت و دعاکا طریقہ سکھایا جس کے ذریعہ وہ رب کی خوشنودی حاصل کر سکیں۔ آدم ؑ کے بعد یہ سلسلہِ ہدایت آخری نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جاری رکھا۔قرآن کا نزول کیا اور اس کو کتاب فرقان بنا یا،جو حق و باطل کا فرق واضح کرنے والی کتاب ٹھہری اور اس پر عمل کرنے والوں کو اللہ رب العالمین نے فلاح کی سند عطاکردی۔یہ کتابِ ہدایت اس خیر و برکت والے ماہ میںنازل ہوئی جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔اس ماہِ مبارک میں ایک نیکی کرنے پر فرض کے برابر ثواب ملتا ہے اور ایک فرض ادا کرنے پر ستّرفرض کے برابر۔یہ مہینہ نیکیوں کو سمیٹنے کا مہینہ ہے اور نیکی حاصل کرنے اور نیکی کو عام کرنے کے لیے لازمی ہے کہ انسان کی نیت اور عقیدہ درست ہو۔اللہ کا فضل ہے کہ یہ مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے اور اللہ نے ہم کو توفیق بخشی ہے کہ ہم اس مہینہ کی برکتوں اور رحمتوں کو سمیٹ سکیں۔

مال و دولت سے محبت:

انسان ہر زمانے میں مال و دولت اور اولاد کے گھمنڈ میں مبتلا رہا ہے۔یہی وہ ذرائع ہیں جو انسان کو دیگر انسانوں پر دنیامیں بظاہر فوقیت بخشتے ہیں ۔اس برائی کی ابتدا اس وقت ہوتی ہے جب انسان اپنی سابقہ زندگی کے مقابلہ موجودہ زندگی میں کچھ برتری حاصل کرنے لگتا ہے،چاہے وہ علم ہو، مال و دولت اور جائداد ہو، طاقت و قوت ہو یا پھر اولاد۔یہ وہ نقطئہ آغاز ہے جو اس کے اندر تکبر و بڑائی اورغرور پیدا کرتاہے۔ایسی صورت میں انسان کی حالت کیا ہوتی ہے اس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں فرماتا ہے:"تو جس نے بخل کیا اور (اپنے خداسے)بے نیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا، اس کو ہم سخت راستے کے لیے سہولت دیں گے۔ اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہو جائے "(الیل:۸-۰۱)۔جب انسان کو مال و دولت سے بے انتہا رغبت ہو جاتی ہے نیز اس کو بہ فراغت یہ سب چیزیں میسر بھی آتی ہیں ایسے مرحلے میں وہ بخل کا رویہ اختیار کرنے لگتا ہے۔یہ بخل خود کی ، اپنے اہل و عیال کی اور معاشرہ کی ضرورتوں پر خرچ کرنے سے روکتا ہے ۔اسی کے ساتھ ساتھ یہ بخل مزید بری شکل جب اختیار کرتا ہے جبکہ اسلامی احکامات پر عمل درآمد میں رکاوٹ بننے لگے نیز اسلامی نظام کے فروغ و قیام میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہوجائے۔ اس مرحلے میں بخیل انسان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے احکامات کو جھٹلاتا ہے، اپنے قول کے ذریعہ اور اپنے عمل کے ذریعہ ۔ساتھ ہی اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگتا ہے۔ ایسے انسان کے لیے ہلاکت میں پڑنا آسان ہو جاتا ہے یہاں تک کہ ہ وقت قریب آجاتاہے جبکہ وہ قبر میں لٹا یا جائے۔غور کرنے کا مقام ہے کہ اس حالت سے کیسے نکلا جائے؟اس کا حل بھی اللہ تعالیٰ خود ہی قرآن حکیم میں پیش کرتا ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے:"تم جو کچھ راہ حق میں خرچ کرو گے وہ تمہارے ہی لیے بھلائی ہے جبکہ تم اپنے اس خرچ میں خدا کے سوا کسی اور کی خوشنودی نہیں چاہتے، اس طرح جو کچھ بھی تم کار خیر میں صرف کرو گے اس کا پورا فائدہ تم کو ملے گا اور تمہارے ساتھ ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا"(البقرہ:۲۷۲)۔مزید فرمایا:"اے ایمان والوں! مال اور اولاد کی محبت تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کردے، جو ایسا کرے گا خود وہ ٹوٹے میں رہنے والا ہے"(المنافقون:۹)۔

مال میں برکت:

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " بندوں پر کوئی صبح بھی نہیں آتی ہے مگر دو فرشتے اترتے ہیں،ایک یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تو اپنی راہ میں مال خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما اور دوسرا یہ دعا کرتا ہے کہ تو بخیل کو بربادی اور نقصان عطا فرما"(متفق علیہ)۔اس حدیث میں صراحت کے ساتھ یہ بات بیان کر دی گئی ہے کہ انسانوں کے گروہ دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک ہدایتِ ربّانی پر عمل کرنے اور اس کو قائم کرنے والے اور دوسرے وہ جو برائیوں کو فروغ دینے میں مصروف عمل ہوتے ہیں۔ہدایت یافتہ لوگ اپنے مال کو صحیح سمت میں صرف کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے فرشتے دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ اس کا انھیں بدل عطا کرے۔یہ برکت کیسے پیدا ہوتی ہے اور اس کا بدل کس طرح انھیں ملتا ہے اس کے تعلق سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں ، ان کی مثال ایسی ہے ، جیسے ایک دانہ بو یا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میںسو دانے ہوں۔اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے، افزوعی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی"(البقرہ:۱۶۲)۔یہ ہے اللہ رب کریم کی رحمت و فیاضی کا مظاہرہ ہے جووہ ایک نیک انسان کے تعلق سے اختیار کرتا ہے۔ایسے انسان کی روزی میں برکتیں نازل ہوتی ہیں اور اس کا رزق کشادہ کر دیا جاتا ہے۔ اس کو ان مقامات سے عنایات بہم پہنچائی جاتی ہیں جہاں اس کا وہم و گمان تک نہیں ہوتا۔اللہ رب رحیم فیاض ہے اور وہ فیاضی کو پسند کر تا ہے۔تو جو لوگ اپنے مال و اولاد میں برکت حاصل کرنا چاہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کریں،جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہیں ان کو ادا کریں اورخدمتِ خلق کے کاموں کو خوب انجام دیں۔ایسا کرنے سے ان کے مال میں اضافہ ہوگا اور آخرت کے دن کامیا بی ان کا مقدر ٹھہرے گی۔

شیطانی وساوس سے نجات:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"شیطان تم کو ڈراتا ہے کہ خرچ کروگے تو فقیر ہو جا گے وہ تمہیں شرمناک چیز یعنی بخیلی کی تعلیم دیتا ہے"(البقرہ:۸۶۲)۔یہ وساوس شیطانی ہی ہیں جو اس کے دل میں آتے رہتے ہیں اور وہ سوچتا ہے کہ ابھی تو میرے پاس بہت قلیل رقم ہے جس سے میری اپنی ضروریات بھی پوری ہوتی نظر نہیں آتیں۔جب ہاتھ کھلا ہوگا اور ہماری ضروریات سے زائد بچ رہے گا تو ہم اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے، لوگوں کے کام آئیں گے، غریبوں ،مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کریں گے۔ لیکن یہ وسوسہ شیطان کا دل میں ڈالا ہوا ہوتا ہے اور اس وسوسہ کے شکار لوگ کبھی بھی اور کسی بھی حالت میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ اب وہ اپنے علاوہ دوسروں پر خرچ کرنے کے لائق ہو چکے ہیں۔ اللہ ربِ رحیم ہماری رہنمائی فرماتا ہے اور بتا تا ہے کہ یہ خیال تمہارے دل میں جو آچکا ہے وہ شیطان کا ڈالا ہوا ہے تم اس سے تب ہی بچ سکتے ہو جبکہ شیطان سے دوری اور اللہ سے قربت قائم کر لو۔ اس کے لیے ایک ذریعہ نماز ہے تو دوسرا روزہ۔ ان کو اختیار کرو تو تمہیں ذلت و رسوائی کی زندگی سے نجات ملے گی۔ پھر تم اس تجارت کو انجام دو گے جس کا ایک فریق اللہ ہوگا اور دوسرے تم خود۔ فائدہ یہ بھی ہوگا کہ تم بخیلی سے بچ جا گے اورکامیابی سے ہمکنار ہوگے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :"اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو"(البقرہ:۵۹۱)۔معلوم ہوا کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے کے معنی ہلاکت اور بربادی کے ہیں۔پھر کہا :"اورجو تنگ دلی سے بچ گئے وہی فلاح پانے والے ہیں"(الحشر:۹)۔

انفاق برائے نام و نمود:

اللہ کی راہ میں اپنے مال کو خرچ کرنا، لوگوں کی مدد کر نا، ان کی ضروریات کی تکمیل کرنا،فلاحِ عام کے کاموں کو فروغ دینا اور اس سب کے لیے اپنی گاڑھی کمائی کو خرچ کرنا اور اس بات کی توقع رکھنا کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کا بدل عطا فرمائے گا۔یہ عمل پسندیدہ ہے اور اللہ تعالیٰ انسانوں کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس کا بہترین بدلہ دیگا۔لیکن یہ عمل جس قدر اہم اور فائدہ مند ہے اس ہی قدر محتاط رہتے ہوئے انجام دیا جانے والا ہے۔ اگر اس میں کوتاہی برتی گئی تو پھر ہماری محنت ضائع ہو سکتی ہے۔ یہ احتیاط کیا ہے اس کے تعلق سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میںخرچ کرتے ہیں، پھر اپنے اس انفاق کے پیچھے احسان اور ایذا کی آفت نہیں لگادیتے ان کا صلہ ہے ان کے رب کے پاس ۔نہ ان کے لیے کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے، ہمدردی کا ایک کلمہ اور بخش دینا بہتر ہے اس صدقہ سے جس کے پیچھے دل آزاری ہو اور اللہ بے نیاز ہے اور علیم ہے۔ اے ایمان والو تم اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دل آزاری کرکے باطل نہ کرو، اس شخص کے مانند جو اپنا مال دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، اس شخص کی تمثیل ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہوجس پر کچھ مٹی ہو، اور اس پر بارش ہو جائے اور اس کو بہا کر چٹان کو چٹیل چھوڑ دے ایسے لوگوں کو ان کی کمائی سے کچھ بھی پلّے نہ پڑے گا اور اللہ کافروں کو راہ یاب نہیں کرتا "(البقرہ:۲۶۲-۴۶۲)۔ان آیات ِ ربانی میںاللہ تعالیٰ بہت صاف الفاظ میں اپنے بندوں کو بتا رہا ہے کہ اگر تم لوگوں کو اپنے احسان میں دبانا چاہتے ہو تو جان لو یہ تمہارے لیے خسارہ کا سودا ہوگا۔یہ مال و دولت جو آج تمہارے پاس ہے وہ سب اللہ کا دیاہوا ہے ،تم خود اس کو کہیں سے حاصل کرکے نہیں لائے تھے۔ لہذا اللہ رحمان و رحیم کی اُن صفات کو اختیار کرو، توقع ہے کہ تمہیں اس کے ذریعہ ابدی فلاح حاصل ہو جائے۔

رمضان اور انفاق :

اللہ کے رسول کی زندگی ہمارے لیے مثالی زندگی ہے۔ اس کو اختیار کر نے کے سے فرد واحد اور گروہِ انسانیت کو دنیاو آخرت میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔انفاق کے سلسلے میں رمضان المبارک میں اللہ کے رسول کا کیا معمول تھااس کا تذکرہ ہمیں احادیث میں ملتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ" رسول اللہ کا طریقہ تھا کہ جب رمضان آتا تھا توآپ قیدیوں کو آزاد فرما دیتے اور ہرسائل کو کچھ نہ کچھ دیتے تھے"(بیہقی)۔دوسری حدیث میں آپ کی سخاوت کو کثرت و زیادتی کے لحاظ سے تیز ہوا، سے تشبیہ دی گئی ہے (بخاری، مسلم، مشکوٰة)۔عام مہینوں کے مقابلے رمضان میں رسول کی سخاوت کاتذکرہ جو یہاں کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول کے پاس کوئی بھی سائل آتا تو وہ اس کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔آپ کا معمول تھا کہ عام دنوں کے مقابلے رمضان میں زیادہ سخاوت کا مظاہرہ کرتے تھے۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم بھی رسول اللہ کے اسوہ کو اختیار کریں۔

اسلامی معاشرہ جہاں ایک طرف موجودہ غربت اور افلاس کی اس بڑی کھائی کو مٹانا چاہتا ہے وہیں یہ بھی چاہتا ہے کہ امت کے افراد اسلامی معاشرے کو وجود میں لانے کی مکمل سعی و جہد کریں۔ عبادات کی حد تک امت مسلمہ کی اکثریت عام دنوں کے مقابلے رمضان المبارک میں اپنے روز و شب کو تبدیل کر لیتی ہے، لیکن یہ کافی نہیں۔ہمارے لیے ضروری ہے کہ اسلام کو مکمل نظامِ حیات کی شکل میں اپنے قول و عمل سے پیش کریں۔ اس کے لیے پہلا کام یہ ہوگا کہ رمضان المبارک میں روزے دار آدھے پیٹ رہ کر روزہ نہ رکھیں، ایسا نہ ہو کہ روزہ رکھنے کے باوجود افطار کے وقت وہ بھوک و پیاس میں مبتلا رہیں اور پورے ماہ ان کے لیے روزے رکھنا ممکن نہ ہو، بیمار، حاجتمند، مسکین،مسافر اور اسلامی کاز میں مصروفِ عمل رہنے والے لوگ اس قدر تنگ دستی میں نہ مبتلا ہو جائیں کہ ان کو مخصوص مہنیہ میں بھی عبادا ت انجام دینا دشوار ہوجائے۔ یہ اور اسی طرح کے دیگر مسائل کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں بھی عام دنوں کے مقابلے رمضان المبارک میں زیادہ فیاضی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اللہ کے رسول کے اس طرز عمل کو اختیار کرنا چاہیے جس میں آپ کی سخاوت کو کثرت و زیادتی کے لحاظ سے تیز ہوا، سے تشبیہ دی گئی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل اہم ہے کہ ہماری فیّاضی سے فیض یاب ہونے والے کسی مخصوص طبقے سے تعلق رکھنے والے نہ ہوں۔ حدیث مبارک ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ میں بیمار تھا تونے میری عیادت نہیں کی....بھوکا تھا، کھانا نہیں کھلایا....پیاسا تھا، پانی نہیں پلایا.....بندہ کہے گا: باری تعالیٰ تو ان چیزوں سے پاک ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو اگر اس کی عیادت کو جاتا تو اسے میں اپنی عیادت سمجھتا....بھوکے کو کھانا کھلانا گویا مجھ کو کھنانا کھلانا تھا"(صحیح مسلم)۔معلوم ہوا کہ اللہ کے بندوں کی ضروریات کو بلا تفریق مذہب و ملت ہر ممکن پورا کرنا چاہیے ، یہ نہ صرف ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ ہماری عبادات کا حصہ ہے اوراگر ایسا نہ کیا گیا تو قیامت کے دن اس کے باز پرس ہوگی ۔ اس کے لیے پہلی شرط ہے کہ ہماری سعی و جہد منظم انداز میں ہو تاکہ لوگوں کے حقوق ادا کیا جا سکیں وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اللہ کی بارگاہ میں حصول توفیق کی دعائیں کریں نیز اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں ۔اپنی فکر و عمل میں ارتقاءنیز زندگی کے رخ کو موڑنے کے لیے رمضان المبارک سے بہتر مہینہ کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔پھر اگر ایسا کیا گیاتو یہ اعمالِ صالحہ ہمیں اللہ کی زمین پر اقتدار بخشیں گے نیز جنت کا حصول ہمارے لیے آسان ہو جائے گا۔ وہ جنت جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے!

vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top