ہم جنس پرستی :ضرورت کس کو ہے؟

ہم جنس پرستی :ضرورت کس کو ہے؟

کہا کہ:"ان سے پوچھو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں ؟"(الزُّمَر:۹)۔مزید کہا کہ :"حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں"(فَاطِر:۸۲)۔معلوم ہوا کہ علم سے مراد فلسفہ و سائنس اور تاریخ و ریاضی وغیرہ درسی علوم نہیں ہی بلکہ صفات الہٰی کا علم ہے قطع نظر اس سے کہ آدمی خواندہ ہو یا نا خواندہ۔جو شخص خدا سے بے خوف ہے وہ علّامہ دہر بھی ہو تو اس علم کے لحاظ سے جاہل محض ہے۔ اور جو شخص خدا کی صفات کو جانتا ہے اور اس کی خشیت اپنے دل میں رکھتا ہے وہ اَن پڑھ بھی ہو تو ذی علم ہے۔علم کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے کہ جس کو اگر حل کر لیا جائے تو پھر زندگی کا مقصد حل ہو جاتا ہے اور اگر اس کے جواب میں ترد ّداور تذبذب ہو،تامل و شک و شبہ ہو،اندیشہ خوف اور ڈر ہوتو پھر زندگی کا ہر کام ایک لا حاصل عمل ہوگا جو یقین و اعتمادپر نہیں بلکہ گمان،شک و شبہ اور وہم پر منحصر ہوگا۔نتیجتاً انسان کی فکر اس کا نظریہ اس کا عمل اور اس کی شخصیت سب کچھ مجروح ٹھہرے گی۔یہ معاملہ تو ایک انسان کا ہے لیکن اگر انسانوں کے گروہ اس پر عمل پیرا ہوں تو وہ گروہ کے گروہ اور وہ اجتماعیت مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہوگی۔وہ لوگ جو اس نظریہ اور فکرکے علمبر دار ہیںوہ خود بہ خود ایک عرصہ بعد ثابت کر دیں گے کہ ان کی بات میںوزن نہیں ۔ اور جس بات میں وزن نہ ہو اس کے پیش کرنے والوں کی نہ وقعت ہوتی ہے اور نہ ہی قدر ومنزلت۔کہا کہ:"اور لوط کو ہم نے حکم اور علم بخشا اور اسے اس بستی سے بچا کر نکال دیا جو بدکاریاں کرتی تھی۔۔۔۔ درحقیقت وہ بڑی ہی بری ، فاسق قوم تھی"(الانبیا:۴۷)۔"حکم اور علم بخشنا" بالعموم قرآن مجید میں نبوت عطا کرنے کا ہم معنی ہوتا ہے۔"حکم" سے مراد حکمت بھی ہے ، صحیح قوت فیصلہ بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سند حکمرانی (Authority) حاصل ہونا بھی۔ رہا " علم" تو اس سے مراد وہ علم حق ہے جو وحی کے ذریعہ عطا کیا گیا ہو۔ قرآن کی روشنی میں یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ علم وہ ہے جو اللہ کے ذریعہ انبیا علیہ السلام کو حاصل ہوا اور جس میں ذرہ برابر کمی بیشی کیے بنا اللہ کے بندوں کو پہنچادیا گیا ہو۔اب جو حکمت ِ خداوندی سے محروم ہو، جس میں قوتِ فیصلہ نہ پایا جاتا ہو اور جس کے پاس "علم"ہی نہ ہو وہ کیونکر صحیح الدماغ ٹھہرے گا اور کیونکر وہ علم کی بنا پرصحیح فیصلہ کر سکے گا۔یہی وجہ رہی کہ جن لوگوں نے بھی "علم"کے بغیر مسائل کو حل کیا وہ نفسانی خواہشات کے علمبردار بن گئے۔پھرانھوں نے نفسانی خواہشات کی تشنگی کو دور کرنے کے لیے خواہشاتِ نفس کی اس قدر بندگی کی کہ وہ انسانوںکے زمرہ سے نکل کر حیوان ،اور بعض مواقع پر حیوانوں کو بھی شرمسار کر نے والے ٹھہرے۔ فی الوقت ہم اپنی بات کے پس منظر میں ہم جنس پرستی کے اُس اہم موضوع کو اٹھانا چاہتے ہیں جس کی زد میں آج بڑے پیمانہ پر نوجوان نسل گمراہی کا شکار ہو رہی ہے۔

ہم جنس پرستی اور ہندوستانی حکومت:

ہندوستان میں جمعرات کو سرکاری وکیل کی طرف سے سپریم کورٹ میں اس بیان کے بعد ہنگامہ مچ گیا کہ ہم جنس پرستی ’غیر اخلاقی‘ فعل ہے اور یہ عمل ’غیر فطری ہے اور اس سے ایچ آئی وی کے جراثیم پھیلتے ہیں۔‘حکومت اس سے پہلے یہ واضح عندیہ دے چکی تھی کہ وہ دِلّی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج نہیں کرے گی جس میں کہا گیا تھا کہ ہم جنس پرستی قانون کی نظر میں کوئی جرم نہیں ہے۔سرکاری وکیل کے عدالت میں بیان کی خبر کے کچھ ہی دیر بعد وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کیا کہ ہم جنس پرستی کے سوال پر حکومت کا کوئی نیا موقف نہیں ہے اور ’ ٹی وی چینلوں پر اس سلسلے میں جو خبر چل رہی ہے وہ درست نہیں ہے۔‘وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں اس کے وکیل نے جو بیان دیا وہ حکومت کا موقف نہیں ہے۔ لیکن وزارت نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ ’غلط فہمی‘ کیسے ہوئی؟بتایا جاتا ہے کہ سرکار کے وکیل نے غلطی سے عدالت میں ایک پرانا حلف نامہ پڑھ دیا تھا جو دو ہزار نو میں دِلّی ہائی کورٹ میں داخل کیا گیا تھا۔سرکاری وکیل ایڈشنل سالیسٹر جنرل پی پی ملہوترا نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو بدل دیا جائے کیونکہ ہم جنس پرستی ’ بھارتی سماجی اقدار‘ کے خلاف ہے اور بھارتی معاشرہ دوسرے معاشروں سے مختلف ہے لہذا بیرونی ممالک کی روایات کی یہاں نقل نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی معاشرے کے زیادہ تر حلقے ہم جنس پرستی کے خلاف ہیں اور اس عمل کو جرم کے زمرے میں رکھنے کے لیے یہ وجہ کافی ہے۔"وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ ہائکورٹ کے فیصلے سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیاجائے گا اور اگر کوئی فریق عدالت سے رجوع کرے گا تو سرکاری وکیل اس معاملے کے مختلف پہلووں کاجائزہ لینے اور قانونی سوالات پر فیصلہ کرنے میں عدالت کی مدد کرسکتے ہیں۔"ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلے کو ہندو، مسلم اور عیسائی مذہبی تنظیموں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت کا ایک دو رکنی بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔وزارت داخلہ نے کہا کہ دو ہزار نو میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا تھا ’جس نے فیصلہ کیا تھا کہ اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیاجائے گا اور اگر کوئی فریق عدالت سے رجوع کرے گا تو سرکاری وکیل اس معاملے کے مختلف پہلووں کاجائزہ لینے اور قانونی سوالات پر فیصلہ کرنے میں عدالت کی مدد کرسکتے ہیں۔‘وزارت کا دعویٰ ہے کہ اس نے سرکاری وکیل کو اس فیصلے سے مطلع کردیا تھا اور اس کے علاوہ اس نے ہم جنس پرستی کے سوال پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ابھی ایڈشنل سالیسٹر جرنل نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی ہے کہ جب حکومت سے انہیں کوئی تازہ احکامات نہیں ملے تھے تو انہوں نے ایک پرانے حلف نامے کی بنیاد پر عدالت میں کھڑے ہوکر اتنے دیر بحث کیسے کی۔غور فرمائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اور اِن جیسے تمام مطالبات حقیقت میں اس وقت ہی اٹھائے جاتے ہیں جب کہ" علم" کو پس پشت ڈالتے ہوئے خواہشات ِ نفسکو فوقیت دی جائے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مطالبات ان لوگوں کی جانب سے اٹھائے جاتے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ" علم" کی تشکیل وحی کے بغیر ممکن ہے۔

علم کی تشکیل وحی کے بغیر ممکن ہے، ایک کھوکلا دعویٰ:

بات کا آغاز یہاں سے کیا جاسکتا ہے کہ 17 ویں اور 18 ویں صدی کے مفکرین نے مغرب میں برپاہونے والی مذہب [عیسائیت] اور جدیدیت کی کشمکش کے دوران اس بات کا دعویٰ کیا کہ علم کی تشکیل وحی کے بغیر خالصتاً عقل کی بنیادوں پر کی جاسکتی ہے۔ اس دعوے کا اصل محرک وہ بے اطمینانی تھی جو ان مفکرین کو مذہب عیسائیت کے ایمانیات سے تھی یعنی انھیں مذہب سے یہ شکایت تھی کہ اس میں ایمان پہلے لایا جاتا ہے اور عقل کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ لہذا انھیں اس بات پر اصرار تھا کہ عقل کو بنیاد بنا کر ایک ایسے علم کی تعمیر کی جاسکتی ہے جو نہ صرف یہ کہ آفاقی ہوگا بلکہ ہر قسم کے ایمانیات، نظریات و مفروضات سے پاک ہوگا۔ اگر ایسا کرنا ممکن ہے تو پھر وحی کو علم کی بنیاد بنانے کی کوئی ضرورت نہیں اور انسان کو ہر قسم کی مذہبی جکڑبندیوں سے آزاد کرکے ایک ایسے برتر اور اعلیٰ مقصد کے حصول کی طرف گامزن کیا جاسکتا ہے جو سب کی فلاح کا باعث ہوگا۔ اس کے لیے انھوں نے استقرائی نظریہ سائنس کی مدد لی۔استقرائی منطق، کے نظریے کے مطابق سائنس کا آغاز مشاہدے سے ہوتا ہے، یعنی سائنس حصولِ علم کا ایسا طریقہ ہے جس میں مشاہدات کی بنیاد پر نظریات قائم کیے جاتے ہیں۔ ان مشاہدات کی بنیاد انسان کے حواس خمسہ پر ہے یعنی سماعت، بصارت، لمس، سونگھنا اور چکھنا، دعوی یہ ہے کہ ان حواس خمسہ سے حاصل ہونے والے مشاہدات کوبنیاد بنا کر آفاقی نوعیت کے نظریات قائم کرنا ممکن ہے۔لیکن جب ان بنیادوں پرمعاشرتی نظریات قائم کیے گئے تو وہ کھوکھلے ثابت ہوئے ۔یہی وجہ ہے کہ آج مغرب اور مغربی فکر کے علمبردار دنیا کے ہر حصے میں معاشرے کو صحیح رخ دینے میں ناکام رہے ہیںاور معاشرتی برائیاں بڑے پیمانہ پر پروان چڑھی ہیں۔معاشرتی خرابیوں کا نتیجہ ہے کہ خاندان منتشرہوئے اور فرد اور معاشرہ اخلاقی زوال میں مبتلا ہو گیا۔نفس اور نفسانی خواہشات کو فوقیت دینے کا نتیجہ تھا کہ انسان کا ہر عمل اس کے مفاد کے گرد ہی ٹھہر کر رک گیا۔محبت و ہمدردی اور احساس ذمہ داری کے رجحانات تبدیل ہو ئے اور دوسروں کے حقوق بڑے پیمانے پر پامال کیے گئے۔پھر وہی چیز صحیح ٹھہری جس میں ایمانیات،عقائد،اور غیب پر ایمان کی نفی کی گئی تھی اور ان ہی چیزوں کو فروغ دیاگیا جس میں ذاتی غرض اور ذاتی مفاد کو اولیت دی گئی ہواور جس میں خواہشات ِ نفس کو تسکین مل جائے۔اس بحث کو پس پشت ڈالتے ہوئے کہ "اُن"کے علاوہ دیگر اُن کی خواہشات کی تسکین کے نتیجہ میں کہیں نقصان نہ اٹھا بیٹھیں یا معاشرے کی اخلاقی جڑیں کھوکھلی نہ ہو جائیں۔جن لوگوں نے ذاتی مفاد کی خاطر مذہب سے دوری ایک مخصوص وقت اور حالات میں حاصل کی تھی اب ان کے درمیان ہر فرد اپنی ذاتی غرض کو اولیت دینے لگا۔رائے عامہ اور فرد کی ذاتی آزادی کو بنیاد بنا کر ۔۔۔۔۔۔جہاں بھی چند لوگ کسی خاص مطالبے کو لے کر اکھٹے ہو گئے انھوں نے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے۔۔۔اپنے مخصوص مفاد کے لیے قوانین تبدیل کر والیے۔

آج تک مغربی معاشرے میں جتنے انقلابات آئے وہ سارے معاشی انقلابات تھے جن کے پیچھے محرومیاں اور طبقاتی انتقام کارفرما تھے ۔ ان معاشروں میں مادی آسائشیں اور سہولیات ضرور موجود ہیں مگر انسان کی تعلیم و تربیت میں روحانی تسکین اور تعمیر چونکہ عنقا ہے اسلئے وہ نت نئے جسمانی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کارل مارکس، لینن اور فریڈرک اینجلز وغیرہ جیسے کمیونسٹ انقلابی مفکرین نے جب سرمایہ داریت کے چنگل سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈنا شروع کیا تو انہوں نے ایک نیا معاشی نظریہ دیا جس میں انفرادی ملکیت کے تصور کی نفی کی گئی تھی۔ معاشی مساوات پر مبنی یہ نظریہ چونکہ محروم المعیشت لوگوں کے دلوں کی آواز تھی اس لئے اسے بظاہر پذیرائی ملی اور اسکے نتیجے میں وہاں سوشلسٹ انقلاب بھی برپا ہوگیالیکن منزل چونکہ معاشی ضرورت کی تکمیل تک محدود تھی اس لئے وہاں مذہب سے بغاوت نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے وجود کا بھی منکر بنادیا۔ صاف ظاہرہے جس معاشرے میں اللہ ہی نہ رہے وہاں الوہی اخلاقیات و قیودات کیسے بچ سکتی تھیں۔ چنانچہ خاندانی نظام یوں بکھرا کہ عورت، ماں، بہن اور بیٹی کے تقدس سے بھی محروم ہوگئی۔

اسلام نے مرد و عورت کو بڑے پیمانے پر حقوق فراہم کیے اور ساتھ ہی راہنمائی کی کہ نامحرم مرد و خواتین جائز حدود سے تجاوز نہ کریں۔پھر پاک بازاسلامی معاشرے کے قیام و استحکام کے لیے کہا کہ مرد اپنی نظروں کو نیچی رکھیں اور عورتیں حجاب اختیار کریں ساتھ ہی وہ مرد و خواتین جو بلاغت کو پہنچ چکے ہوں وہ شادی کر لیں۔ اس کے برخلاف مغربی مفکرین نے نا محرم عورت و مرد کے درمیان اسلامی تعلیمات کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے غیر اخلاقی بنیادوں پر ایک دوسرے کے درمیان نزدیکیاں پیدا کیں اور ساتھ ہی کھلے مواقع بھی اور اس کو انھوں نے "حقوقِ نسواں"کا نام دیا۔ایک طرف انھوں نے شادی کے معتبر رشتے کومشکوک نگاہوں سے دیکھا تو دوسری طرف عورت کی عفت و عصمت پامال کرتے ہوئے اسے بے حجاب بنایا۔اِس کے لیے انھوں نے "حقوقِ نسواں"کے اِس نام نہاد نعرے کی آڑ میں عورت کے ساتھ بڑا ہی ظلم کیا۔کہیں اُسے مرد بنا کر نسائیت یا عورت پن سے محروم کردیا۔کہیں اُس پر معاش کا بوجھ ڈال دیاتو کہیں اُسے ایک شے یا product بنادیا۔ اللہ رب رحیم نے مرد و عورت کے پر جو ذمہ داریاں عائد کی تھیں وہ متاثر ہوئیں۔حاصل یہ کہ عورتیں اپنی ذمہ داریاں اور وہ اخلاقی معیاربرقرار نہ رکھ سیکیں جو مطلوب تھا۔آج مغربی دنیا میں خاندانی نظام مکمل طور پر منتشر ہوچکا ہے اور اس کے راست اثرات معاشرتی زندگی پر نمودار ہوچکے ہیں۔موجودہ مغربی معاشرے میں کروڑوں بچے ایسے ہیں جنہیں ماں باپ کی محبت کا کوئی تجربہ ہی نہیں۔ مغرب میں کروڑوں والدین ایسے ہیں جن کے لیے وہ خدمت ایک خواب ہے جو اولاد سے مخصوص ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مغربی معاشرے نفسیاتی اور جذباتی تسکین کے لیے ترس گئے ہیں اور طرح طرح کے نفسیاتی‘ ذہنی اور جذباتی عوارض نے انہیں گھیر لیا ہے۔یہی وہ نفسیاتی،جذباتی اور ذہنی دبا ہے جس کی وجہ سے آج ان کا کوئی فیصلہ صحیح رخ اختیار نہیں کر پاتا ۔وہ جو فیصلہ بھی کرتے ہیں وہ ان کی اس متذبذب زندگی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ایسے معاشرے اور ایسے اقتدار پذیر لوگوں سے مرعوب ہو کراگر کوئی اپنے گھر، خاندان اور بیوی بچوں کواُس رخ پر چلانے کا خواہاں ہوتو وہ کیا کہلائے گا؟ کیا اُس شخص کا دماغی توازن برقرار کہلائے گا جس کے سامنے شواہد موجود ہوںاور پھر بھی نہ وہ اس کے منفی اثرات کودیکھ سکتا ہواور ناہی محسوس کر سکتا ہو۔کیاایسے خبط الحواس لوگوں کی ہر معاملہ میں پیروی کی جانی چاہیے؟ اِن کے مطالبے ہم جنس پرستی کی بھی؟

vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top