واقع معراج :امت مسلمہ کی شرف و منزلت کی رات!

کہا کہ: سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ (بنی اسرائیل :۱) "پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دُور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا۔"۔پھر کہا کہ:وَلَقَد رَاٰہُ نَزلَةًاُخرٰی۔عِندَ سِد رَة ِالمُنتَھٰی۔ عِندَھا جَنَّةُ المَاوٰی۔ اِذ یَغشَی السّدرَةَ مَا غشٰی۔ مَازَاغَ البَصَرُوَمَا طَغٰی۔ لَقَدرَٰای مِن ٰایٰتِ رَبّہِ الکُبرٰی (النَّجم:۱۸-۱۳) "اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدر المنتہیٰ کے پاس اس کو دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے ۔ اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا۔ نگاہ نہ چوندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی اور اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں "۔قرانِ حکیم کی یہ دوآیات اور ان میں واقعہ معراج کا تذکرہ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک عظیم واقعہ تھا جو اس نے اپنے نبی پر ظہور فرمایا۔یہ واقعہ مکمل طور پر احادیث کی کتب میں موجود ہے اور اس کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے خلیفہ ٔاول حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔

پس منظر:
 یہ وہی واقعہ ہے جو اصطلاحاً”معراج“اور ”اسراء“کے نام سے مشہور ہے۔ اکثر اور معتبر روایات کی رو سے یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بکثرت صحابہ سے مروی ہیں جن کی تعداد ۲۵ تک پہنچتی ہے۔ ان میں سے مفصل ترین روایت حضرت انس بن مالک ، حضرت مالک بن صَعصَعہ، حضرت ابو ذر غفاری اور حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہیں۔ ان کے علاوہ حضرت عمر ، حضرت علی ، حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت ابو سعید خدری ، حضرت حذیفہ بن یمان ، حضرت عائشہ اور متعدد دوسرے صحابہ نے بھی اس کے بعض اجزاء بیان کیے ہیں۔قرآن مجید یہاں صرف مسجد حرام (یعنی بیت اللہ )سے مسجد اقصٰی(یعنی بیت المقدس)تک حضور کے جانے کی تصریح کرتا ہے اور اس سفر کا مقصد یہ بتا تا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنی کچھ نشانیاں دکھانا چاہتا تھا۔ اس سے زیادہ کوئی تفصیل قرآن میں نہیں بتا ئی گئی ہے۔ حدیث میں جو تفصیلات آئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ رات کے وقت جبریل علیہ السلام آپ کو اٹھا کر مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک براق پر لے گئے۔ وہاں آپ نے انبیاءعلہیم السلام کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر وہ آپ کو عالم بالا کی طرف لے چلے اور وہاں مختلف طبقات سماوی میں مختلف جلیل القدر انبیاءسے آپ کی ملاقات ہوئی۔ آخر کار آپ انتہائی بلندیو ں پر پہنچ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے اور اس حضوری کے موقع پر دوسری اہم ہدایات کے علاوہ آپ کو پنج وقتہ نماز کی فرضیت کا حکم ہوا۔ اس کے بعد آپ بیت المقدس کی طرف پلٹے اور وہاں سے مسجد حرام واپس تشریف لائے۔اس سلسلے میں بکثرت روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو جنت اور دوزخ کا بھی مشاہدہ کرایا گیا۔نیز معتبر روایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ دوسرے روز جب آپ نے اس واقعہ کا لوگوں سے ذکر کیا تو کفار مکہ نے اس کا بہت مذاق اڑایا اور مسلمانوں میں سے بھی بعض کے ایمان متزلزل ہوگئے۔
        اس سفر کی کیفیت کیا تھی؟ یہ عالم خواب میں پیش آیا تھا یا بیداری میں ؟ اور آیا حضور بذات خود تشریف لے گئے تھے یا اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے محض روحانی طور پر ہی آپ کو یہ مشاہدہ کرا دیا گیا؟ ان سوالات کا جواب قرآن مجید کے الفاظ خود دے رہے ہیں۔ سبحٰنَ الّذِی اَسریٰ سے بیان کی ابتدا کرنا خود بتا رہا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑا خارقِ عادت واقعہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرت سے رونما ہوا۔ ظاہر ہے کہ خواب میں کسی شخص کاا س طرح کی چیزیں دیکھ لینا، یا کشف کے طور پر دیکھنا یہ اہمیت نہیں رکھتا کہ اسے بیان کرنے کے لیے اس تمہید کی ضرورت ہو کہ تمام کمزوریوں اور نقائص سے پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو یہ خواب دکھایا یا کشف میں یہ کچھ دکھایا۔ پھر یہ الفاظ بھی کہ "ایک رات اپنے بندے کو لے گیا" آسمانی سفر مانے بغیر چارہ نہیں کہ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہد ہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرایا۔

قرآن و حد یث میں واقعہ کی حیثیت:
 مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو تمام عیبوں سے پاک ہے،جس کی ہر بات سچی ہے اور جس میں کسی بھی طرح کی تحریف ممکن نہیں ۔پھر یہ بھی کہ محمد رسول اللہ اللہ کے بندے اور آخری رسول ہیں۔وہ انسانوں میں سب سے معتبر شخصیت ہیں ۔لہذا قرآن کی ہر بات قابل یقین اور تمام احادیث قابل تقلید ہیں۔اسلام میں تمام رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ جو شخص کسی رسول پر ایمان نہ لائے گا وہ کافر ہوگا خواہ وہ باقی رسولوں کو مانتا ہو۔لہذا اگر ہم جاننا چاہیں کہ آپ میں اوردوسرے پیغمبروں میں کیا فرق ہے تو اس کو ہم تین باتوں کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں: ۱)آپ ہمیشہ کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے۔۲) دیگر انبیاءکی تعلیمات اپنی خالص صورت میں محفوظ نہیں رہی۔۳)دیگر انبیاءکی تعلیمات مکمل نہیں تھی،احکام و قوانین میں ترمیم و اضافہ ہوتا رہا۔ لیکن: آپ کو ایسی تعلیمات دی گئی جو ہر حیثیت سے مکمل تھی، اس کے بعد تمام انبیاءکی شریعتیں منسوخ ہو گئیں۔ اسی طرح قرآن حکیم کے تعلق سے بھی چند باتوں کا جان لینا ضروری ہے۔۱) صحفِ ابراہیم ؑ اب دنیا میں موجود نہیں، رہیں تورات، زبور، انجیل تو وہ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس موجود ہیں لیکن قرآن کہتا ہے کہ ان سب کتابوں میں لوگوں نے خدا کے کلام کو بدل ڈالا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن میں اور دیگر کتابوں میں بہت نمایاں فرق ہو گیا ہے۔۲)دیگر کتابوں کے اصلی نسخے گم ہو گئے اور ترجمے رہ گئے ، قرآن اُنھیں الفاظ میں موجود ہے ایک حرف بلکہ ایک شوشہ میں بھی تغیر نہیں ہوا۔ ۳)قرآن میں خالص کلام الٰہی ہمیں ملتا ہے ، تفسیر ،حدیث، فقہ، سیرت رسول، سیرت صحابہ اور تاریخ اسلام سب قرآن سے بالکل الگ ہے۔۴)قرآن کے متعلق زبردست تاریخی شہادتیں موجود ہیں، آیتوں تک کے متعلق معلوم ہے کہ کون سی آیت کب اور کہاں نازل ہوئی۔۵) پچھلی کتابیں جن زبانوں میں نازل ہوئی تھیں وہ ایک مدت سے مردہ ہو چکی ہیں، اب کہیں بھی ان کے بولنے والے باقی نہیں رہے۔۶)دنیا کی مختلف قوموں کی کتابوں میں کسی خاص قوم کو مخاطب کیا گیا ہے ،یہ کتابیں ایک خاص زمانے کے لیے تھیں،قرآن کے احکامات ہر زمانے میں ہر جگہ کے لیے ہیں۔۷)قرآن میں جتنی خوبیاں پچھلی کتابوں میں الگ الگ تھیں وہ سب اس میں جمع کردی گئی ہیں اور جو خوبیاں پچھلی کتابوں سے چھوٹ گئی تھیں وہ بھی اس کتاب میں آگئی ہیں۔معلوم ہوا کہ قرآن پرہمارا ایمان اس حیثیت سے ہے کہ یہ خدا کا خالص کلام ہے،سراسر حق ہے، اس کا ہر لفظ محفوظ ہے، اس کی ہر بات سچی ہے، اس کے ہر حکم کی پیروی فرض ہے اور وہ ہر بات رد کر دینے کے قابل ہے جو قرآن کے خلاف ہو۔ لہذا قرآن و حدیث میں تذکرۂ معراج ،ثابت کرتا ہے کہ وہ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے اور جو شخص بھی اس میں تذبذب کا شکار ہو اس کا ایمان جاتا رہے گا۔

اللہ کے قادر مطلق ہونے کا یقین :
 اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ انبیاءکرام کے ذریعہ مختلف امتوں کو آزمائے۔پس یہ واقعہ بھی اسی سنت کا ایک حصہ ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ امت ِ محمدی کو آزمانا چاہتا ہے ۔پھر نہ صرف یہ آزمائش ہے بلکہ اللہ کی قدرت،جنت و دوزخ کے وجود،جبریل امین کی حیثیت،نماز کی فرضیت اور ان جیسے دیگر معاملات سے بھی اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس کے نبیکو واقف کیا جائے۔واقعہ کا پیش آنا اور اس کا نبی کے ذریعہ بیان کیا جانا ، ان لوگوں کے لیے پریشانی کا سبب بن گیا جن کی آنکھیں اور جن کے دل نبی کی بات ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔یہی وہ لوگ تھے اور ہیں جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ:یہ اندھے ہیں گونگے ہیں بہرے ہیں انھیں کچھ نہیں سوجھتا۔یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر ہونے،اس کی قدرت کو بیان کرنے کے لیے بھی کافی ہے،یہی وہ ذاتِ اقدس ہے جو تمام ظاہر و پوشیدہ قوتوں پر حاوی ہے۔اس واقعہ کے ذریعہ نہ صرف نبیکو بلکہ انسانوں کو بھی اللہ تعالیٰ وہ علم بہم پہنچانا چاہتا ہے جس کے ذریعہ اللہ کی نعمتیں واضح ہو جائیں اور انسانوں کو اُس خسارے سے بچالیا جائے جس کا مشاہدہ کرایا گیا۔یہ واقعہ آپ کی صداقت کی تصدیق کرتا ہے کہ آپ کے ذریعہ بتائی گئی ہر بات سچی ہے۔لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے قول و عمل سے اس بات کی شہادت دیں کہ واقعی ہم نبی کی ہر بات کو سچ مانتے ہیں۔یہ شہادت جس قدر پختہ ہوگی اسی قدر حق و باطل کی کشمکش میں نیز زمین پر اللہ کے احکامات نافذ کرنے میں سعی و جہدکرنے والوں کے لیے آسانی ہوگی۔اسی لیے کہا کہ :ہدایت ہے ان پرہیزگاروں کے لئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں،نماز قائم کرتے ہیں،جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے ،اس میں سے خرچ کرتے ہیں (البقرہ:۳)۔ لازم ہے کہ ایسے افراد اللہ کی قادر مطلق ہستی پر ہر آن بھروسہ کریںاور یہ تب ہی ممکن ہے جب کہ ایک انسان ان تمام غیب کی باتوں سے واقف ہو جائے جو اُس کو پیش آنے والی ہیں۔

امت مسلمہ کی شرف و منزلت کی رات:
 عزت و ذلت ، عروج و زوال اور شرف و منزلت سب اللہ کے اختیار میں ہے ۔ وہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے بلندیاں عطا فرماتا ہے، جس کو چاہتا ہے دنیامیں ہی کامیابیاں عطا کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنا پسندیدہ اور محبوب بنا لیتا ہے۔ انسان کو اختیاردیا گیا ہے کہ چاہے تو وہ قدر و منزلت حاصل کر ے اور چاہے تو ذلیل و رسوا ہو ۔ واقعہ معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دودھ اور شراب کے برتن میں سے کسی ایک کو لینے کے لیے کہا گیاتھا۔حدیث میں آتا ہے کہ :۔۔۔۔ باہر نکلا توحضرت جبرئیل ؑدو برتن لے کر آئے ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ۔ میں نے دودھ پسند کیا۔۔۔۔(مسلم:باب ایمان:واقعہ معراج)نوویؓ کہتے ہیں: "اس روایت میں اختصار ہے اور مراد یہ ہے کہ جبریل ؑنے آپ کو اختیار دیا تھا کہ ان دونوں برتنوں میں سے جس کو چاہیں اختیار کریں۔آپ نے دودھ پسند کیا جیسے دوسری رویت ابوہریرہؓ کی صاف موجود ہے کہ آپ کو الہام ہوا کہ دودھ کے اختیار کرنے کا اور فطرت سے مراد اسلام اور استقامت ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم نے اسلام کی علامت کو اور اس پر استقامت کو اختیار کیا اور دودھ اسلام کی علامت اس وجہ سے ہوا کہ وہ پاکیزہ خوشگوار نیک انجام ہے اور شراب تو سب ناپاکیوںکی جڑ ہے اور حال اور مال دونوں میں برائیاں پیدا کرنے والی ہے"۔یہ واقعہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کو نیکی و بدی اختیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔دودھ اور شراب تمثیل ہے پاکی اور ناپاکی ، معروف و منکر کی یعنی انسان جس چیز کو اختیار کرے گا وہی چیز اس کے مقدر میں لکھ دی جائے گی اور پھر قدر و منزلت اور ذلت وپستی بھی اسی درجہ اس کو حاصل ہوگی۔
        غور فرمائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ رات ہے جس میںپانچ وقت کی نماز فرض کی گئی۔حدیث میں آتا ہے کہ :جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم کویہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی اور کفر و شرک کے درمیان فرق نماز کا چھوڑنا ہے(مسلم)۔یعنی انسان مشرک ہوکر رہے، کافر ہو کر رہے یا مومن بن کر یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ نماز ترک کرتا ہے یا وقت پر ادا کرتا ہے کیونکہ نماز کو ادا کرنا یا ترک کرنا اس کے اختیار میںہے۔ اُس رات بنی کی جلیل القدر انبیاءسے ملاقات کرائی گئی یعنی ایک جانب مسلمان ان انبیاءکی تصدیق کریں گے اور دوسری جانب نبی آخرزماں صلی اللہ علیہ واسلم کے اسوہ کو اختیار کریں گے۔ پھر یہ وہ رات ہے جس میں جنت و دوزخ کا مشاہدہ کرایا گیا اور آپ نے سدرة المنتہی تک کا سفرطے کیا۔اسی رات میں پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی اور کہا کہ جو شخص نیکی کے کام کی صرف نیت کرے اس کوایک نیکی ملے گی اور اگرنیت پوری کرے تو دس نیکیاں ملیں گی۔مزید یہ کہ برائی کے کام کی نیت کرے تو کچھ نہ لکھا جائے گا اور اگر برائی کے کام کو انجام دے لے تو صرف ایک ہی برائی لکھی جائے گی۔معلوم ہوا کہ اللہ چاہتا ہے کہ بندوں پر عفو و در گزرکیا جائے، ان کے گناہ معاف کردے، ان کے نیک کاموں کی قدر کرے اور ان کواعلیٰ مقام عطا کردے۔یہ ہیں وہ شرف و منزلت کے پیمانے جو اُس رات عطا کیے گئے اور یہیں سے امت کے لازوال عروج کی ابتدا ہوئی۔واقعہ معراج ہمارے عقیدہ میں پختگی پیدا کرتا ہے، اللہ اور نبی کی باتوں پر یقین کامل میں استحکام بخشتا ہے ساتھ ہی ہمارے درجات بلند کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم شرف و منزلت کے حصول کی سعی و جہد کریں یا ذلت و پستی و خواری اپنا مقدر بنائیں۔
 لیکن! واقعہ معراج کو غلط رخ دینا، اس واقعہ سے دیگر پیش نہ آنے والی باتوں کا جوڑ دینا، اس رات میں مخصوص عبادات کرنا اور اس رات ہی کو منزلت کی رات قرار دینا، یہ سب باتیں بدعت میں شمار کی جائیں جانے ولی ہیں گرچہ ہمارے شب و روز کے اعمال میں تبدیلی نہ آئے، ہم ان فرائض کو نہ انجام دیں جو ہر دن پانچ مرتبہ ہم پر با جماعت فرض ہے۔یہ واقعات شہادت کے لیے کافی ہوں گے کہ ہمارے عقائد و نظریات، افکار و خیالات اور قول و عمل میں تضاد موجود ہے۔ایمان کا لازمی تقاضہ ہے کہ جو بات اللہ و رسول کے ذریعہ بتائی جائے اس کو تسلیم کیا جائے ساتھ ہی زندگی کو اس کے مطابق ڈھا ل لیاجائے۔
wwwww

CONVERSATION

Back
to top