بدلتے حالات میں صحیح تجزیہ کی ضرورت !

                بے قابو بھیڑ جس طرح آج کل ہندوستان میں بے قصور انسانوں کے قتل کی پیاسی بنی ہوئی ہے۔ان حالات میں انسانیت سے ہمدردی رکھنے والا ہر شخص بے چین اور پریشان ہے۔اس کے باوجود کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بھیڑ سے ہمدردی رکھتے ہیں، اس کی حمایت کرتے ہیں اور اُس کے اِس غیر قانونی اور غیر انسانی عمل کی نہ صرف تائید کرتے ہیں بلکہ اُن کی نگہبانی اور محافظت کا کام بھی انجام دے رہے ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ جن حالات سے ہندوستان آج کل گزر رہا ہے وہ نئے نہیں ہیں۔ظلم و تشدد اور قتل و غارت گری ہندوستانی سماج کی گھٹی میں موجود ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وقت اور حالات کی مناسبت سے اس کے اثرات مرتب ہوتے رہے ہیں اور مختلف افکار و نظریات اور عقائد سے وابستہ افراد و گروہ اِس کا شکار ہوئے ہیں۔یہ ظلم و تشدد کا نظریہ سماج میں آزادی سے قبل بھی تھا اور آزادی کے بعد بھی جاری ہے۔ اس نظریہ کو فروغ خصوصاً اس وقت حاصل ہوا جبکہ ہندوستان کی قدیم مہذب قوموں دراوڑ کوجنوب کی طرف دھکیل کر تقریباً دیڑھ ہزار قبل مسیح وسط ایشا ءکی چراگاہوں سے نکلی ایران کو پامال کرتی ہوئی خود کوآریہ کہلانے والی قوم نے ہندوستان میں اقتدار حاصل کیا۔ڈاکٹرمعین الدین اپنی کتاب' عہد قدیم اور سلطنت دہلی'،ص 33پر لکھتے ہیں کہ:آریاکے معانی سنسکرت میں بلند مرتبہ اور معزز کے آئے ہیں۔ یہ معنی غالباً آریوں نے برصغیر میں اپنائے ہیں۔ کیونکہ وہ مقامی باشندوں کو پشیاجی یعنی کچاگوشت کھانے والے، داس یعنی غلام اور تشا یعنی حقیر کہتے تھے۔ جب کہ ان کے مقابلے میں خود کو آریاکہتے تھے۔لیکن چونکہ دوسروں کو حقیر اور خود کو برتر سمجھنے والی قوم آزادی سے قبل ایک طویل عرصہ تقریباًگیارہ صدیوں پر مشتمل مدت ،اقتدار سے دور رہی لہذا اس کے ظلم وتشدد سے بھی لوگ محفوظ رہے۔اس کے باوجود حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ آریہ قوم اور اس کا منووادی نظریہ ختم نہیں ہواہے۔ اور چونکہ کوئی بھی قوم اس وقت تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی جب تک کہ اللہ اس کے خاتمہ کا فیصلہ نہ کردے لہذا وہ آج بھی نہ صرف اپنی آن بان اور شان کے ساتھ موجود ہیںبلکہ اپنے منو وادی نظریہ کو جسے موجودہ دور میں ہندتو کا نام دیا گیا ہے ،منظم و منصوبہ بند انداز میں فروغ دے رہے ہیں۔

                منو وادی یا ہندتو نظریہ کے باالمقابل ہندوستان میں اسلام کا نظریہ گزشتہ بارہ صدیوں سے موجود ہے۔لیکن چونکہ ہندوستان پر حکومت کرنے والے مسلم حکمرانوں کی اکثریت نے اسلام کے نظام حیات کو فروغ دینے کے لیے کسی سازش یا ظلم و تشدد کا طریقہ اختیار نہیں کیا لہذا اس نظریہ کو خود با خود تقویت حاصل ہوئی اور چند مبلغین اسلام کی کوششیں رنگ لائیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ انسانوں پر اپنے ہی جیسے انسانوںکا اقتدار ختم ہوا ۔دوسری جانب مسلم حکمرانوں نے ہندوستانی معاشرہ میں دراڑ ڈالنے اسے تقسیم کرنے اور منظم و منصوبہ بند انداز میں ٹکڑوں میں بانٹنے کی کوشش نہیں کی لہذا ہندو اکثریت ہونے کے باوجود امن و امان برقرار رہا۔ہندوستانی حکمرانوں کے دور اقتدار کے بعد انگریز وں نے حکومت سنبھالی اور اس بات کی کوشش کی کہ ہندوستانی معاشرہ تقسیم ہو،تاکہ وہ حکومت و اقتدار سے فائدہ حاصل کرتے رہیں ۔انگریز اپنے لائحہ عمل 'پھوٹ ڈالو اور راج کرو'کے پہلے حصے میں کامیاب رہے لیکن دوسرے حصے میں ناکامی کے سبب حکومت و اقتدار اُنہیں چھوڑنا پڑا۔ہندوستان آزاد ہوا لیکن پہلے دو حصوں میں اور بعد میں تین حصوں میں تقسیم ہو گیا۔موجودہ ہندوستان اور آج کے حالات کے پس منظر میںجو عموماً گزشتہ سوسال پر محیط ہیںاور خصوصاً آزادی کے بعد سے اب تک ،ہندوستانی معاشرہ کو دوبڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔i)ظلم و تشدد کا نظریہ ساتھ ہی جو کل حقیر تھے وہ آج بھی حقیر ہیں اور جو کل برتر تھے وہ آج بھی برتر ہیں ، کا نظریہ۔ii)منو وادی یا ہندتو نظریہ حیات کو قائم کرنے اور ہند میں جس نظریہ کی آمد کے سبب سابقہ نظریہ میں ٹھہرا آیا تھایا وہ بہت حد تک ختم ہو گیا تھا ،اس سے نفرت اور نظریہ اور حاملین نظریہ کے خاتمہ کی خواہش۔وہیں چلینج یہ بھی ہے کہ کل انگریزوں نے جو طریقہ 'پھوٹ ڈالو اور راج کرو'کا اختیار کیا تھا اور اس کے لیے جس نفرت کی فضا کو ہموار کیا تھا ٹھیک وہی طریقہ آج بھی جاری ہے۔وہیں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ منووادی نظریہ کے حاملین کو آزادی کے بعد ہی سے اقتدار حاصل رہا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ کل وہ کچھ کم تھے لیکن آج وہ اکثریت میں ہیں۔

                گفتگو کے پس منظر میں چند باتیں قابل توجہ ہیں جنہیں سمجھ لینا ضروری ہے۔i)ہندوسماج آج بھی اُسی منو وادی نظام میں تقسیم ہے جس میں اسلام آنے سے قبل تقسیم تھا۔ii)منو وادی نظام کے دو بڑے حصے آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں،ان میں پہلا برہمن ہے تو دوسرا دلت۔iii)نظریہ کے اعتبار سے ہندوستان میں مارکس کے مبلغین اور الحاد پر یقین رکھنے والے بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔iv)اللہ پر یقین رکھنے والے لیکن خدائی میں تین طاقتوں کے باطلانہ نظریہ کے حاملین بھی ہندوستان میں موجود ہیں،گرچہ وہ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے۔v)ہندوستان میں رائج الوقت نظریہ تعلیم جو قوم و ملت کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے اس پر مارکس کے مبلغین و الحاد پر یقین رکھنے والے نیز خدائی میں مثلث بنانے والوںکا تسلط ہے اور اب دھیرے دھیرے ہندتو وادی نظریہ کے حاملین بھی اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھتے نظر آرہے ہیں ۔vi)معاشی اعتبار سے ہندوستان میں بنیا کہلانے والے لوگ بازار پر قابض ہیں ساتھ ہی کچھ ملٹی نیشنل کمپنیز ہیں جو عموماً بھید بھا نہیں کرتے اور بس منافع حاصل کرنے کے سراغ میں رہتے ہیں ۔اس کے باوجود یہاں بھی تیزی کے ساتھ بازار پر ان طاقتوں کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے جو یا تو راست یا بلاواسطہ منووادی اور ہندتو نظریہ کے ہمدرد ہیںیا مجبوراًاُنہیں اِن طاقتوںسے اظہار ہمدردی کرنا پڑتی ہے۔ویسے پالیسی کے اعتبار سے یہی بازاری قوتیں ملک کی معاشی پالیسی بناتی ہیں اور حکومتیں عموماً اُنہیں کی بنائی مارکیٹ پالیسیوں کونافذ بھی کرتی ہیں۔کیونکہ یہ جگ ظاہر ہے کہ صنعتی مالکان ہی مختلف سیاسی پارٹیوں کو دولت فراہم کرتی ہیں جس کی بناپر وہ الیکشن لڑتی ہیں لہذا مارکیٹ پالیسی مستقبل میں بھی یہی صنعتی مالکان بناتے رہیں گے ۔البتہ اس میں بھی متشدد نظریہ کے حاملین جیسے جیسے اپنا دائرہ بڑا کریں گے دوسروں کا دائرہ تنگ ہوتا جائے گا۔

                درج بالا تجزیہ کی روشنی میں ضروری ہے کہ ملک کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے۔جس تیز رفتاری کے ساتھ معصوم ،مظلوم اور بے گناہ لوگوں کو بھیڑ کے ذریعہ ہلاک کیا جا رہا ہے اسے سمجھا جائے۔جو لوگ اس بھیڑ کو جودرحقیقت منظم و منصوبہ بند اپنے طے شدہ اہداف پر عمل پیرا ہے ابھی بھی بھیڑ سمجھ رہے ہیں وہ اس مغالطہ سے باہر نکلیں ۔منو وادی یا ہندتو وادی سافٹ یا ہارڈ نظریہ کے حاملین جس خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے بھی یاد رکھیں اور کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔جو نظریات کمزور پڑتے جا رہے ہیں اور جو فروغ پا رہے ہیں یا فی الوقت انہیں کچھ زیادہ حوصلہ مل رہا ہے،انہیں سمجھیں، مشاہدہ کریںاور ممکن ہو تو نوٹ بھی کریں۔ساتھ ہی ملک کا تعلیمی نظام،معاشی نظام اور سیاسی نظام جن نظریات پر آج تک برقرار رہا ہے اور جو تغیرات مزید اس میں برپا ہو رہے ہیںان کاتجزیہ کریںاورسمجھنے کی کوشش کریں۔اور اس پورے پس منظر میں اپنی حیثیت اور شناخت کو برقرار رکھیں۔جو لوگ آج آپ کے ساتھ کھڑے ہیں یا آپ ان کے ساتھ کھڑے ہیں یا کسی بھی طرح کے ظلم و نا انصافی کے خلاف کوئی محاذ بنتا نظر آرہا ہے تو خدا کے واسطے وہاں بھی اپنی شناخت کھونے نہ دیں۔آپ کہیں گے شناخت کیسے برقرار رکھی جائے؟تو اس کے بہت سے طریقہ ہیں لیکن دن میں پانچ مرتبہ آپ کی شناخت واضح کرنے کا ذریعہ نما ز ہے اس سے کہیں بھی اور کسی بھی محاذ پرغفلت نہ برتیں۔۔۔ (جاری(

CONVERSATION

Back
to top